منگلورو ،7؍ جولائی (ایس او نیوز) پرائیویٹ بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں نے الزام لگایا ہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی (آر ٹی اے) کے ساتھ میٹنگ منعقد ہونے سے پہلے بسوں کا کرایہ نہ بڑھانے کا حکم ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کیے جانے کے باوجود بھی نجی بسوں نے اپنے کرایہ میں اضافہ کردیا ۔
یاد رہے کہ کووڈ لاک ڈاون کے بعد جب دوبارہ بسیں شروع کی گئیں تو ضلع انتظامیہ کی طرف سے انہیں صرف آدھے دن تک بسیں چلانے اور 50 فیصد مسافروں کو لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس وقت بس مالکان نے کرایہ میں 20 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت لی تھی۔ اب چونکہ بغیر کسی پابندی کے رات ۹ بجے تک بسیں سڑکوں پر دوڑانے کی اجازت دی گئی ہے ، اس کے بعد بھی بڑھا ہوا کرایہ وصول کیا جاتا رہا جس کے خلاف بہت سی تنظیموں نے آواز اٹھائی تھی۔
اس پس منظر میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر راجیندرا کے وی نے پیر کے دن بس مالکان کے ساتھ میٹنگ کی اور اضافی کرایہ لینے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی اے کے ساتھ میٹنگ منعقد کرکے وہاں پر جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کیا جائے۔ لیکن منگل کے دن بھی نجی بسوں میں اضافہ کرایہ وصول کیے جانے کی شکایت مسافروں کی طرف سے سننے کو مل رہی ہے جس پر ضلع انتظامیہ کو دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔ نجی بس مالکان کی طرف سے ضلع ڈپٹی کمشنر کی ہدایت کو نظر انداز کیے جانے پر دلت حقوق کے لئے جد وجہد کررہی تنظیموں نے کڑی مذمت کی ہے۔ دلت تنظیم کے سیکریٹری کرشنا پی اے نے مطالبہ کیا ہے ایسے بس مالکان کے خلاف ضروری قانونی اقدام کیا جائے۔